رؤیت ہلال ، Chand Dekhne ke tareqe
رؤیت ہلال
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم
اﷲ ربُّ محمّد صلی اﷲعلیہ وسلما
(رؤیت ہلال کے بارے میں لوگوں کی ایجاد کردہ خبر(تاراور خط) کو باطل کرنے میں عمدہ بحث)
کیا آپ جانتے ہیں ؟
قسط : ۳
تنبیہ دوم: تار کی حالت خط سے زیادہ ردی و سقیم کہ اس میں کاتب کا خط تو پہچانا جاتا ہے، طرز عبارت شناخت میں آتاہے، واقف کار دیگر قرائن سے اعانت پاتا ہے ۔
بایں ہمہ ہمارے علماء نے تصریح فر مائی ہے کہ امور شرعیہ میں ان خطوط و مراسلات کا کچھ اعتبار نہیں کہ خط خط کےمشابہ ہوتا ہے اور بن بھی سکتا ہے تو یقین شرعی نہیں ہوسکتا کہ یہ اُسی شخص کا لکھا ہُواہے۔
ائمہ دین کی عبارتیں لیجئے:اشباہ١میں ہے:لایعتمد علی الخط ولا یعمل بہ (خط پر نہ اعتماد کیا جائے گا نہ عمل۔
ہدایہ٢ میں ہے: الخط یشبہ الخط فلم یحصل العلم (خط دوسرے خط کے مشابہ ہوتا ہے لہذا اس سے علم حاصل نہ ہوگا۔
فتح القدیر٣میں ہے:الخط لاینطق وھو متشابہ (خط بولتا نہیں اور اس میں مشابہت ہوتی ہے ۔
درمختار ٤میں ہے:لایعمل بالخط (خط پر عمل نہیں کیا جاسکتا ۔
فتاوی قاضیخاں ٥ میں ہے: قاضی فیصلہ دلیل پر کرے اور دلیل گواہ ہیں یا اقرار پر فیصلہ کرے، اشٹام حجت نہیں کیونکہخط دوسرے خط کے مشابہ ہوسکتا ہے ۔
کافی شرح وافی٦میں ہے: الخط یشبہ الخط وقد یزور ویفتعل۔
(خط خط کے مشابہ ہوتا ہے اور یہ ان اشیاء میں سے ہے جن سے کسی کی طرف جُھوٹ منسوب کیا جاتا اور جعلسازی کیجاتی ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
(“ ازکی الاھلال بابطال مااحدث الناس فی امرالھلال ١٣٠٥ھ “ )
( “ الفتاوی الرضویہ “ جلد ۱۰ ، صحفہ ۳۶۲ )
طالب دعا : سید جیلانی میاں جیلانی
خانقاہ مدنی سرکار موربی گجرات
Comments
Post a Comment